
قصور میں پیپر ملز میں آگ لگنے سے 2 مزدور جھلس کر جاں بحق ہوگئے۔ حادثے میں متعدد مزدورں جھلس کر زخمی بھی ہوئے۔
امدادی ٹیموں کے مطابق فیکٹری کا زیادہ تر حصہ آگ کی لپیٹ میں ہے، کوشش کر رہے ہیں کہ آگ فیکٹری کے دوسرے حصے تک نہ پہنچ پائے۔ فیکٹری انتظامیہ کے مطابق فیکٹری کے دوسرے حصے میں بڑی مقدار میں کیمیکل موجود ہے۔
قبل ازیں ڈپٹی کمشنر قصور کا کہنا تھا کہ آگ بجھانے کے لیے لاہور اور اوکاڑہ سے مزید گاڑیاں طلب کی گئی ہیں۔ آگ بجھانے کا عمل رات گئے شروع ہوا، جو صبح تک جاری رہا۔ ابتدا میں 8 گاڑیوں نے آگ بجھانے کے عمل میں حصہ لیا، تاہم آگ کی شدت بڑھنے کے بعد ریسکیو کاموں میں اضافہ کردیا گیا۔ پانی کی کمی اور کام میں تیزی لانے کیلئے لاہور اور اوکاڑہ سے بھی فائر بریگیڈ کی گاڑیاں منگوائی گئیں۔
ریسکیو حکام کا کہنا تھا کہ پیپر ملز کے ویئر ہاؤس میں آگ لگی نے دیکھتے ہی دیکھتے ملحقہ گودام کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ سے جھلس کر دو افراد جاں بحق اور متعدد جھلس کر زخمی ہوئے ہیں۔ لاشوں کو ضروری کارروائی جب کہ زخمیوں کو فوری طبی امداد کیلئے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
آخری اطلاعات تک تيرہ سے زائد گاڑیاں، ساٹھ ریسیکو اہلکار اور اسنارکل آگ بجھانے میں مصروف رہے۔ ڈی او ریسکیو کا کہنا ہے کہ آگ پر مکمل قابو پانے میں 2 روز لگ سکتے ہيں۔
دوسری جانب قصور میں پیپر مل میں آتشزدگی کے واقعہ پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے نوٹس ليتے ہوئے کمشنر لاہور ڈویژن سے رپورٹ طلب کرلی۔ مزدوروں کے جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی ہیں۔
اپنے بیان میں وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ امدادی سرگرمیاں تیز کر کے شعلوں پر قابو پانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
from SAMAA https://ift.tt/VuZISCw
No comments:
Post a Comment