فیصل واوڈا نااہل ہونگے یا نہیں؟ فیصلہ آج سنایا جائے گا - Top Breaking News - World News, Latest News, Breaking News

Top Breaking News - World News, Latest News, Breaking News

World news app brings you the latest news and videos from the World Top Breaking News. Stay tuned to the latest news and stories from the World. Access videos and photos on your device with the Top Breaking News, World News from https://madarshain-news.blogspot.com/

Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

Wednesday, February 9, 2022

فیصل واوڈا نااہل ہونگے یا نہیں؟ فیصلہ آج سنایا جائے گا

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا کے اہل یا نا اہل ہونے سے متعلق کیس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا۔

الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کی نااہلی کیس کا فیصلہ 23 دسمبر کو محفوظ کیا تھا جو آج 9 فروری کو سنایا جارہا ہے۔

فیصل واوڈا پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور امیدوار قومی اسمبلی ریٹرننگ افسر کو کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت اپنی امریکی شہریت چھپائی تھی۔ الیکشن کمیشن کے بار بار پوچھنے پر بھی فیصل واوڈا نے امریکی شہریت چھوڑنے کی تاریخ نہیں بتائی تھی۔

فیصل واوڈا نے 2018 کے عام انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت جھوٹا حلف نامہ جمع کرایا اور دہری شہریت چھپائی۔ حکومتی رہنما نے جائیدادوں کی خریداری کے ذرائع بھی چھپائے، انہوں نے نہ تو منی ٹریل دی اور نہ ہی ٹیکس ادا کیا۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن میں یہ درخواستیں 2 سال قبل 21 جنوری 2020 کو مخالف امیدوار عبدالقادر مندوخیل، میاں فیصل اور آصف محمود کی جانب سے دائر کی گئی تھیں جب کہ سماعت کا باقاعدہ آغاز 3 فروری 2020 کو ہوا۔

الیکشن کمیشن میں سماعتوں کے دوران فیصل واوڈا نے بتایا تھا کہ عام انتخابات کے وقت ریٹرننگ افسر کے سامنے پیش ہوا تو منسوخ شدہ امریکی پاسپورٹ دکھایا تھا جس پر کلیئرنس ملی، نادرا نے 29 مئی 2018 کو امریکی شہریت سیز کردی تھی۔ الیکشن کمیشن میں درخواست گزاروں نے سرٹیفکیٹ کی فوٹو کاپی جمع کرائی جس کے مطابق فیصل واوڈا نے 25 جون 2018 کو امریکی شہریت چھوڑی تاہم فیصل واوڈا نے اس کاپی کو تسلیم نہیں کیا ۔

الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا سے امریکی شہریت چھوڑنے کے سرٹیفکیٹ کا استفسار کیا تو ان کا کہنا تھا انہیں پاکستان یا امریکا کے قانونی پیپر ورک کا زیادہ علم نہیں۔ درخواست گزاروں نے الیکشن کمیشن سے استدعا کی کہ وہ خود امریکی سفارتخانے سے سرٹیفکیٹ کے لیے رابطہ کر لے تاہم الیکشن کمیشن نے یہ کہہ کر انکار کردیا تھا کہ یہ اس کا اختیار نہیں۔

فیصل واوڈا نے سینیٹر منتخب ہونے کے بعد یہ استدعا بھی کی کہ یہ درخواستیں اس وقت کی ہیں جب وہ ممبر قومی اسمبلی تھے، اب انہیں مسترد کیا جائے، تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے 6 دسمبر کو الیکشن کمیشن کی کارروائی روکنے کی درخواست مسترد کردی تھی۔

گزشتہ سال فیصل واوڈا کی نااہلی کے لیے دائر ایک درخواست عدم پیروی پر خارج کر دی گئی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نومبر 2021 میں پی ٹی آئی کے سینیٹر فیصل واوڈا کی نااہلی کیس الیکشن کمیشن کو 60 دن میں فیصلہ سنانے کی ہدایت کی تھی۔



from SAMAA https://ift.tt/YQ9TifU

No comments:

Post a Comment

Post Bottom Ad

Responsive Ads Here

Pages