فلم انڈسٹری میں طویل عرصے تک اپنی آواز کے جادو سے راج کرنے والی گلوکارہ لتا منگیشکر انتقال کرگئی ہیں۔ ان کی عمر 92 برس تھی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق عوام شیواجی پارک میں گلوکارہ کی میت کا دیدار کر سکیں گے۔
بریچ کینڈی اسپتال کے ڈاکٹر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا انتقال آج اتوار کی صبح تقریباً آٹھ بجے ہوا۔ بریچ کینڈی اسپتال کے چیف ایگزیکٹیو آفسیر این سینتھانم نے لتا منگیشکر کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔
تقریبا 20 دن تک انہیں انتہائی تشویش ناک حالت میں انتائی نگہداشت کے وارڈ (آئی سی یو) میں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا مگر گزشتہ ہفتے ان کی صحت میں بہتری کے بعد انہیں وینٹی لیٹر سے ہٹاکر آکسیجن پر رکھا گیا تھا۔
انہیں گزشتہ ماہ 8 جنوری کو کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ وہ ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں زیر علاج تھیں، جہاں وہ تادم مرگ زیر علاج رہیں۔ لتا منگیشکر کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا اور ان میں کرونا کی معتدل علامات موجود تھیں۔
گلوکارہ کی بھتیجی رچنا نے لتا منگیشکر کے کرونا میں مبتلا ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اگرچہ ان میں علامات بہت کم ظاہر ہوئیں لیکن عمر کے پیش نظر احتیاطاً ان کو آئی سی یو میں رکھا گیا۔
لتا منگیشکر کو جنوری میں کورونا وائرس اور نمونیا کی تشخیص پر اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔
گزشتہ ماہ 26 جنوری کو ان کی حالت میں بہتری پروینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیا تھا، کل حالت دوبارہ بگڑنے پر انہیں وینٹی لیٹر پر پھر منتقل کر یا گیا تھا۔
بریچ کینڈی اسپتال سے تعلق رکھنے والے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر پریت صمدانی پچھلے کئی برس سے لتا منگیشکر کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔
گلوکارہ آشا بھوسلے نے گزشتہ روز (ہفتے کی شام) اپنی بڑی بہن لتا منگیشکر سے اسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں ملاقات کی تھی۔
انہوں نے اسپتال سے کار میں نکلتے وقت میڈیا سے بات چیت کی تھی اور کہا تھا کہ ڈاکٹروں کے مطابق میری بہن کی حالت اب بہتر ہے۔
بھارتی صدر اور وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے بھی لتا منگیشکر کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔
President Ram Nath Kovind condoles the passing away of singing legend Lata Mangeshkar
“A Bharat Ratna, Lata-Ji’s accomplishments will remain incomparable,” the President says. pic.twitter.com/mTK1BRbPeH
— ANI (@ANI) February 6, 2022
Prime Minister Narendra Modi “anguished” at the demise of legendary singer Lata Mangeshkar
“She leaves a void in our nation that cannot be filled,” he says.
(file photo) pic.twitter.com/vfpm2ybIBK
— ANI (@ANI) February 6, 2022
لتا کے انتقال کی خبر میڈیا پر آتے ہی سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئی اور دنیا بھر میں موجود ان کے پرستاروں کی جانب سے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔
موسیقی کی کائنات میں
سناٹا ہے
انسانی آواز سے رسیلا پن جاتا رہا
وہ چلی گئی!!!!!!!!
آہ لتا منگیشکر
(آنسو)— Count de Monet (@SalooDurrani) February 6, 2022
A legend who brought the joy of singing to the billions . Bless her soul https://t.co/PaWeCEBha8
— SHAFAAT SHAH (@INFANTRY28) February 6, 2022
سات دہائیوں پر مشتمل طویل کیرئیر کے دوران لتا منگیشکر نے مختلف زبانوں میں 30 ہزار گانے گائے، لتا ‘اک پیار کا نغمہ ہے’ اور ‘دیدی تیرا دیور دیوانہ’ سمیت درجنوں مقبول ترین گانے گائے۔
بھارتی حکومت کی جانب سے لتا منگیشکر کو 1969 میں بدما بھشن (تیسرا بڑا سول ایوارڈ)، 1999 میں پدما ویبھشن (دوسرا بڑا سول ایوارڈ) اور 2001 میں سب سے بڑے سول ایوارڈ بھارت رتنا سے نوازا گیا۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بھارتی گلوکارہ کو 2019 میں بھی سانس کے مسئلے کی وجہ سے اسپتال داخل کرایا گیا تھا۔
لتا نے انیس سو بیالیس میں اپنے والد دینا ناتھ منگیشکر کے انتقال کے بعد باقاعدہ گلوکاری شروع کردی تھی، دینا ناتھ کی بیٹیوں میں نہ صرف لتا نے سروں کی دنیا میں مقبولیت حاصل کی بلکہ ان کی بہن آشا بھوسلے نے بھی گلوکاری میں اہم مقام حاصل کیا۔
سال 1929 میں پیدا ہونے والی لتا کی آواز سے ان کی عمر کا ذرا بھی اندازہ نہیں لگایا جاسکتا، بھارتی گلوکارہ اب تک 50 ہزار سے زائد گانے گا چکی ہیں، وہ 1974ء سے 1991ء تک گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں ریکارڈ ہولڈر کے طور پر شامل رہیں۔
Legendary singer Lata Mangeshkar admitted to ICU after testing positive for Covid-19. She has mild symptoms: Her niece Rachna confirms to ANI
(file photo) pic.twitter.com/8DR3P0qbIR
— ANI (@ANI) January 11, 2022
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں کرونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون کے سامنے آنے کے بعد بالی ووڈ انڈسٹری میں متعدد فنکاروں کے کرونا وائرس ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔
اس سے قبل بالی ووڈ اداکار بونی کپور اور آنجہانی اداکارہ سری دیوی کی بیٹی خوشی کپور کے کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کی خبر سامنے آئی تھی۔
دوسری جانب کرونا وائرس اور اومی کرون میں اضافے کی وجہ سے بھارتی ریاست مہاراشٹر میں اسکول اور کالج 15 فروری تک بند رکھنےکا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں ریکارڈ کیسز سامنے آنے کے بعد مہاراشٹر میں سوئمنگ پول اور جم بھی بند کر دیئے گئے ہیں، جب کہ دفاتر میں ملازمین کی حاضری 50 فیصد تک محدود کر دی گئی ہے۔
مہاراشٹر کے نجی دفاتر میں مکمل ویکسینیشن والوں کو ہی آنے کی اجازت ہوگی۔
from SAMAA https://ift.tt/t5XaBHY
No comments:
Post a Comment