بلاول بھٹو کا یوسف رضا گیلانی کااستعفیٰ منظور کرنےسے انکار - Top Breaking News - World News, Latest News, Breaking News

Top Breaking News - World News, Latest News, Breaking News

World news app brings you the latest news and videos from the World Top Breaking News. Stay tuned to the latest news and stories from the World. Access videos and photos on your device with the Top Breaking News, World News from https://madarshain-news.blogspot.com/

Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

Tuesday, February 1, 2022

بلاول بھٹو کا یوسف رضا گیلانی کااستعفیٰ منظور کرنےسے انکار

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر يوسف رضا گيلانی کا استعفیٰ منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

گزشتہ روز سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ ایجنڈے میں بھی نہیں لکھا تھا کہ اسٹیٹ بینک ترمیمی بل اس دن پیش کیا جائے گا جبکہ ووٹنگ کے بعد 30 منٹ کیلئے اجلاس کو ملتوی کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ نے حکومت کی معاونت کی، چیئرمین سینیٹ کو ووٹ نہیں دینا چاہیے تھا۔

اپوزیشن لیڈر يوسف رضا گيلانی کا کہنا ہے کہ پارٹی کو اپنا استعفیٰ بھجوا ديا ہے، مزید سينيٹ ميں قائد حزب اختلاف نہيں رہنا چاہتا ہوں۔

یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ حکومتی ممبران کے طنز پر نہیں اپنوں کی خاموشی پر حیران ہوں، مجھے اپوزیشن لیڈر نہیں رہنا۔

واضح رہے کہ 28 جنوری کو سینیٹ میں اپوزیشن کی اکثریت کے باوجود حکومت اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کے حوالے سے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل منظور کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔

پارلیمنٹ کے بڑے ایوان میں اپوزیشن کے 57 اور حکومت کے صرف 42 ارکان کے باوجود اپوزیشن ارکان کی غیر حاضری کی وجہ سے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل منظور ہوگیا۔ حکومت کے اپنے 4 ارکان کی عدم موجودگی کے باوجود اپوزیشن ارکان کی غیرحاضری نے پانسہ پلٹ دیا۔

اہم ترین قانون سازی کے لیے ایک طرف حکومتی رکن سینیٹر زرقا آکسیجن سلنڈر اور ڈاکٹرز کی ٹیم کے ہمراہ وہیل چیئر پر ایوان میں پہنچیں تو دوسری طرف خود قائد حزب اختلاف یوسف رضا گیلانی کو ملتان سے آتے دیر ہوگئی۔

ن لیگی سینیٹر نزہت صادق بیرون ملک ہونے کے باعث جبکہ مشاہد حسین سید کرونا کی وجہ سے اجلاس میں شرکت نہیں کرسکے۔ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سردار شفیق ترین، بی این پی مینگل کی نسیمہ احسان، بی این پی کے قاسم رانجو، پیپلز پارٹی کے سکندر مہندرو اور  جے یو آئی کے سینیٹر طلحہ محمود بھی غیرحاضر رہے۔

اے این پی کے عمر فاروق کاسی ووٹنگ کے دوران آٹھ کر ایوان سے باہر چلے گئے۔ رہی سہی کسر دلاور گروپ کے آزاد ارکان نے اپنا ووٹ حکومتی پلڑے میں ڈال کر پوری کردی۔ یوں 42 کے مقابلے میں 43 ووٹوں سے بل منظور ہوگیا۔



from SAMAA https://ift.tt/Px50tOui4

No comments:

Post a Comment

Post Bottom Ad

Responsive Ads Here

Pages