
کے الیکٹرک نے نیپرا کو1 ماہ کیلئے بجلی 1.80 روپے سستی کرنے کی درخواست دے دی ہے۔
کےالیکٹرک نےدرخواست دسمبر 2021 کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دی جس کےبعد چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی کی زیرصدارت سماعت نیپرا ہیڈکوارٹرز میں ہوئی۔
نیپرا حکام کا کہنا تھا کہ اعدادو شمار کے بعد معلوم ہوا کہ 2.59 روپے کمی بنتی ہے اور کے الیکٹرک کی بجلی 1.8 نہیں بلکہ 2.5 روپے سستی ہونی چاہئے۔ بجلی کی قیمت میں کمی کی صورت میں کراچی صارفین کو 2 ارب 10 کروڑ روپے کا ریلیف ملے گا۔
نیپرا اتھارٹی اعدادوشمار کا جائزہ لے کر بجلی کی قیمت میں کمی کا حتمی فیصلہ چند روز میں کرے گی۔
واضح رہے کل بروز منگل کو نیپرا نے سینٹرل پاور پرچیزنگ کی بجلی کی قیمت میں 3.12 فیصد اضافے سے متعلق سماعت کی۔
سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی جانب سے دسمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 3 روپے 12 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست پر سماعت چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی کی زیر صدارت نیپرا ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں ہوئی۔
سی پی پی اے نے اتھارٹی کو بتایا کہ ایل این جی اور درآمدی کوئلے کی قیمت میں اضافہ پیداواری لاگت بڑھنے کی بنیادی وجہ ہے، اس کےعلاوہ صنعتی صارفین کے لیے پیکج کی وجہ سے بجلی کی پیداوار میں 17 فیصد اضافہ ہوا۔
وائس چیئرمین نیپرا رفیق شیخ کا ونڈ اور شمسی توانائی سے بجلی کی پیداوار میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ ملک میں ہوا اور سولر سے 600 میگاواٹ کی پیداواری صلاحیت ہے، دونوں ذرائع سے صلاحیت کے مقابلے میں 3 فیصد سے بھی کم بجلی پیدا ہوئی۔
رفیق شیخ نے سی پی پی اے سے پوچھا کہ ہوا اور سورج کی روشنی سے بجلی کی پیداوار کم کیوں ہو رہی ہے؟ ونڈ اور سولر پلانٹس کا ٹیرف ساڑھے روپے فی یونٹ بنتا ہے، یہ 600 میگاواٹ سسٹم میں شامل ہوتے تو صارف کو 14 روپے فی یونٹ بچت مل سکتی تھی۔
from SAMAA https://ift.tt/Az0Jyierl
No comments:
Post a Comment