
سندھ ہائی کورٹ نے برنس روڈ فوڈ اسٹریٹ کی سڑکوں پر بند کرنے پر ڈپٹی کمشنر جنوبی سے وضاحت طلب کرلی ہے۔
سندھ ہائی کورٹ میں برنس روڈ فوڈ اسٹریٹ پر سڑکوں کی بندش کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔
فوڈ اسٹریٹ کی وجہ سے سڑکوں کی بندش پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ سڑک بند کرنے کی کیا لاجک ہےاور روڈ کس نے بند کردیا ہے
جسٹس حسن اظہررضوی نے استفسار کیا کہ اگر کسی رہائشی کواسپتال جانا ہوگا تو کیسے جائےگا۔
ایڈوکیٹ عرفان عزیز نے عدالت کو بتایا کہ ڈپٹی کمشنر نے ازخود روڈ بند کردیا ہے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سڑک بند کرنے سے پہلے وہاں کے مکینوں کا موقف سنا گیا تھا،وہاں تو رات 3 بجے تک ہوٹل کھلے ہوتے ہیں تو اہل علاقہ کیا کریں گے۔
عدالت نے برہمی اظہار کرتےہوئے مزید ریمارکس دئیے کہ ایسا تو فوجی حکومتیں بھی نہیں کرتیں کہ سڑکیں ازخود بند کردیں۔ نوٹیفیکیشن جاری کرنے سے پہلے مقامی لوگوں کو کیوں نہیں سنا گیا۔
جسٹس حسن اظہرنےاسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل پر برہمی اظہار کرتےہوئے ریمارکس دئیے کہ آپ نے ہزاروں لوگوں کا راستہ بند کردیا،انتظامیہ کو کہیں کہ آنکھیں بند کرکے کام نہ کریں۔
ڈی ایس پی ٹریفک نے عدالت کو بتایا کہ شام کو 7 بجے بیریئرز لگا دیتے ہیں۔عدالت نے پولیس افسر کی سرزنش کرتےہوئے کہا کہ آپ کو کچھ نہیں پتہ، فائل لہراتے ہوئے آگئے، وہاں کی گلیاں تنگ ہیں اور وہاں چھوٹی گاڑیاں بھی نہیں گزرسکتیں۔
جسٹس حسن اظہر نے ریمارکس دئیے کہ ہم بھی ڈی جے کالج میں پڑھے ہیں اوراطراف کی ساری گلیاں دیکھی ہیں،وہاں کی گلیاں تنگ ہیں اوراوپر سے آپ سڑکیں بند کررہے ہیں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ حکومت سے پوچھ کربتائیں کہ سڑک بند کرنے سے پہلے مقامی لوگوں کو سنا گیا تھا یا نہیں؟ اگرجواب نہیں آیا تو ڈپٹی کمشنر جنوبی خود پیش ہوکر وضاحت کریں۔
عدالت نے کیس کی سماعت 4 ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔
from SAMAA https://ift.tt/u56Pq4K
No comments:
Post a Comment