تاحیات نااہلی کیخلاف آئینی درخواست اعتراض لگا کر واپس - Top Breaking News - World News, Latest News, Breaking News

Top Breaking News - World News, Latest News, Breaking News

World news app brings you the latest news and videos from the World Top Breaking News. Stay tuned to the latest news and stories from the World. Access videos and photos on your device with the Top Breaking News, World News from https://madarshain-news.blogspot.com/

Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

Tuesday, February 1, 2022

تاحیات نااہلی کیخلاف آئینی درخواست اعتراض لگا کر واپس

Supreme Court of Pakistan

فائل فوٹو

سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے تاحیات نااہلی کی درخواست اعتراض لگا کر واپس کر دی ہے۔

سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے منگل یکم فروری کو سپریم کورٹ بار کی جانب سے تاحیات نااہلی کے خلاف دائر درخواست پر اعتراضات لگائے گئے، جس کے بعد درخواست کو واپس کر دیا گیا ہے۔

تاحیات نااہلی کے خلاف آئینی درخواست واپس کرتے ہوئے کہا گیا کہ درخواست سے متعلق سپریم کورٹ کا 5 رکنی لارجر بینچ فیصلہ دے چکا ہے۔ دوسری جانب سپریم کورٹ بار نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف اپیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

رجسٹرار آفس کا کہنا ہے کہ درخواست گزار انفرادی شکایت لے کر آیا جو 184 بٹا 3 کے دائرہ کار میں نہیں آتی،اعتراض 184 بٹا 3 کے اختیار سماعت سے متعلق اٹھائے گئے نقاط اطمینان بخش نہیں۔ رجسٹرار کے دفتر نے کہا ہے کہ ایک بار کسی مقدمے کا فیصلہ ہو جائے تو نئی درخواست دائر نہیں کی سکتی۔

سپریم کورٹ بار نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف اپیل کا فیصلہ کیا ہے۔ درخواست میں دوسرے پٹیشنر صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن احسن بھون ہیں۔ درخواست گزار سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نے رجسٹرار کے اعتراضات کے حوالے سے بتایا کہ وہ جلد ایک نئی درخواست دائر کریں گے اور اعتراضات کو دور کیا جائے گا۔

درخواست گزار کون

واضح رہے کہ تاحیات نااہلی ختم کرنے کے معاملے پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے درخواست دائر کی تھی جس کے متن میں وفاق کو فریق بنایا گیا تھا۔ درخواست کے مطابق تاحیات نااہلی کے اصول کا اطلاق صرف انتخابی تنازعات میں استعمال کیا جائے، درخواست کے متن میں آرٹیکل 184اور آرٹیکل 99 کی تشریح کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں برطرف وزیراعظم نواز شریف کیس میں تاحیات نااہلی کے قانون کی تشریح کی تھی ، سپریم کورٹ نے 2018 میں قرار دیا تھا کہ آرٹیکل 62 شق 1 ایف کے تحت نااہلی تاحیات ہوتی ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے دائر کی جانے والی حالیہ درخواست میں متعدد ایسے مقدمات کا حوالہ دیا گیا جس میں عدالت نے مختلف ادوار میں سیاست دانوں کو اسی قانون کے تحت نااہل قرار دیا تھا۔ ان میں زیادہ تر فیصلے سنہ 2013 سے سنہ 2018 کے درمیانی عرصے کے ہیں۔

کون تاحیات نااہل

واضح رہے اس وقت پاکستان میں دو اہم سیاسی رہنما تاحیات نااہلی کا شکار ہیں، جس میں برطرف وزیراعظم نواز شریف اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین شامل ہیں۔

Nawaz Sharif, Jehangir Tareen disqualified for life - SAMAA

سال 2017 میں سپریم کورٹ نے برطرف وزیر اعظم نواز شریف اور تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کو تاحیات نااہل قرار دیتے ہوئے کوئی بھی عوامی عہدہ رکھنے سے روک دیا تھا۔ نواز شریف کو جولائی میں جب کہ جہانگیر ترین کو دسمبر میں تاحیات نااہل قرار دیا گیا تھا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ اپریل 2018 میں اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے تاحیات ناہلی سے متعلق درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے آئین کے اس آرٹیکل کو برقرار رکھا تھا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ یہ قانون مستقل رہے گا اور یہ عوام کی ضرورت کے عین مطابق ہے کیونکہ لوگ چاہتے ہیں کہ انہیں انتخابات کے نتیجے میں ایسے رہنما میسر آئیں جو کہ صادق اور امین ہوں۔

اس بینچ میں شامل جسٹس عظمت سعید نے اپنے اضافی نوٹ میں لکھا تھا کہ سماعت کے دوران کچھ وکلا کی طرف سے یہ معاملہ بھی اٹھایا گیا کہ تاحیات نااہلی کا قانون غیر مناسب اور زیادہ سخت ہے، جس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے اپنے اضافی نوٹ میں لکھا تھا کہ یہ معاملہ عدالت میں اٹھانے کے بجائے پارلیمنٹ میں لایا جائے اور وہ اس بارے میں فیصلہ کرے۔

سپریم کورٹ کے سابق صدر

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر کامران مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ سنہ 2018 میں اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم ہونے والے لارجر بینچ نے تاحیات نااہلی کے قانون سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران نواز شریف اور جہانگیر ترین کو براہ راست درخواست دے کر فریق بننے کا نہیں کہا تھا، تاہم جسٹس ثاقب نثار نے یہ ضرور کہا تھا کہ اگر کوئی شخص اس قانون سے متاثر ہوا ہو اور اس میں فریق بننا چاہے تو اسے ایسا کرنے کی اجازت ہے۔

اس کے باوجود مذکورہ افراد نے فریق بننے کے لیے درخواست نہیں دی تھی۔



from SAMAA https://ift.tt/eLEr9YDGI

No comments:

Post a Comment

Post Bottom Ad

Responsive Ads Here

Pages